ریٹائرڈ جنرل فیض حمید، چکوال سے کور کمانڈر تک کا سفر 14 سال قید پر ختم، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
چکوال: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کا تعلق چکوال سے ہے اور انہوں نے بلوچ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
فیض حمید نے پاکستان آرمی میں انٹیلی جنس اور انسداد جاسوسی کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلیجنس سیکشن میں ڈی جی اور جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔
ان کی مدت ملازمت کے دوران انہوں نے ملکی اور علاقائی سکیورٹی معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی کابل میں ایک تصویر وائرل ہوئی جس کے بعد بعض مبصرین نے ان پر سیاسی اور عسکری معاملات میں مبینہ مداخلت کے الزامات بھی لگائے۔
فیض حمید کو 2021 میں کور کمانڈر پشاور اور بعد میں کور کمانڈر بہاولپور مقرر کیا گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی اور 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع ہوا۔















