بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، ایک کروڑ خواتین کو ڈیجیٹل والٹ کے ذریعےادائیگی ہو گی

10 ملین پاکستانی خواتین کو بی آئی ایس پی کے تحت بینک اکاؤنٹس ملے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا ہدف جون 2026 تک ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان کی ایک کروڑسے زائد غریب خواتین کو پہلی بار بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت بینک اکاؤنٹس بنا دئیے گئے ہیں، جس کے ذریعے وہ ماہانہ وظیفہ  وصول کریں گی۔ اس سے قبل یہ خواتین ایجنٹس کے رحم و کرم پر تھیں اور قطاروں میں کھڑے رہتی تھیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت خواتین کو موبائل والٹ اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں جو ان کے قومی شناختی کارڈز سے منسلک ہیں اور موبائل فون سے آپریٹ ہوں گے۔ حکومت نے مفت سمیں بھی فراہم کی ہیں۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے خواتین کو بایومیٹرک تصدیق کے ذریعہ رقم ملے گی تاکہ ایجنٹس یا مرد افراد کا کردار ختم ہو گیا ہے۔

حبیب بینک نے31لاکھ، بینک الفلاح نے 30لاکھ، بینک آف پنجاب نے 20 لاکھ، جاز کیش نے 12 لاکھ، اور ایزی پیسہ نے تقریباً 7 لاکھ اکاؤنٹس کھولے ہیں۔ حکومت نے 17لاکھ سمیں تقسیم کی ہیں اور مارچ کے آخر تک 80 فیصد اکاؤنٹس کو موبائل والٹس سے منسلک کرنے کا ہدف ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا ہدف ہے کہ جون 2026 تک بی آئی ایس پی کے تمام فائدہ اٹھانے والوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں میں شامل کیا جائے۔ حکومت نے پنجاب میں 51 لاکھ، سندھ میں26لاکھ، خیبر پختونخوا میں 22 لاکھ، بلوچستان میں 4 لاکھ85 ہزار، آزاد کشمیر میں 1 لاکھ67ہزار، گلگت بلتستان میں 1 لاکھ 15ہزاراور اسلام آباد میں 21ہزار سمیں دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

بی آئی ایس پی کی بنیاد 2008 میں رکھی گئی تھی، جس کا مقصد غریب خاندانوں کی مدد کرنا تھا۔ حکومت نے اس پروگرام کے لیے 716 ارب روپے مختص کیے ہیں اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت وظیفہ 13,500 روپے سے بڑھا کر 14,500 روپے کیا جا رہا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں