جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید، فوجی احتساب کی تاریخ پھر موضوع بحث

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی، فوجی احتساب کی تاریخ پھر موضوع بحث۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جس کے بعد پاکستان میں ہائی پروفائل فوجی احتساب کی تاریخ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ جنرل فیض پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور شہری کو مالی نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں الزام تھا کہ آئی ایس آئی اور رینجرز اہلکاروں نے درخواست گزار کنور معیز خان کے دفتر اور گھر سے سونا، زیورات اور نقد رقم تحویل میں لی۔ جنرل فیض نے ان سے ملاقات میں سامان واپس کرنے کی پیشکش کی، سوائے 400 تولہ سونے اور نقد رقم کے۔ سپریم کورٹ نے نومبر 2023 کے حکم میں کہا کہ جنرل فیض کے خلاف الزامات سنگین ہیں اور نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ انہیں دسمبر 2024 میں باضابطہ فردِ جرم عائد کی گئی۔

پاکستان کی فوجی تاریخ میں اعلیٰ فوجی افسران کا احتساب پہلے بھی مشاہدہ کیا گیا ہے، جیسا کہ این ایل سی اسکینڈل میں جہاں مختلف افسران کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات ہوئیں۔ 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو حساس معلومات افشا کرنے پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

1995 میں میجر جنرل ظہیرالاسلام عباسی اور دیگر افسران کو بغاوت کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایف جی سی ایم نے عباسی کو 7 سال اور دیگر افسران کو مختلف سزائیں سنائیں۔

2011 میں بریگیڈیئر (ر) علی خان اور 5 افسران کو کالعدم تنظیم سے روابط اور بغاوت کی کوشش پر سزائیں دی گئیں۔ فوج نے بعض اوقات انضباطی کارروائی کے تحت افسران کو عہدوں سے برطرف بھی کیا ہے، جیسا کہ 2016 میں کرپشن کے الزامات پر دو حاضر سروس جرنیلوں سمیت 6 افسران کو برطرف کیا گیا۔

دیگر متعلقہ خبریں