جنوبی وزیرستان میں مولا خان سرائے اسپتال غیرفعال ہونے کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، فنڈز کی تاخیر نے اسپتال کی کارکردگی متاثر کی۔
جنوبی وزیرستان: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اپر جنوبی وزیرستان کے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال مولا خان سرائے گزشتہ سال سے غیرفعال ہونے کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاقہ مکین مریضوں کو دور دراز اسپتالوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق اسپتال میں بروقت طبی امداد نہ ملنے سے متعدد افراد کی اموات ہوچکی ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق اسپتال کو 2020 تک محکمہ صحت کے کنٹرول میں رکھا گیا تھا، بعد ازاں صوبائی حکومت نے اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ایک این جی او کے سپرد کر دیا۔
این جی او نے عملے کی تعیناتی اور سروس کی فراہمی کی ذمہ داری سنبھالی تھی، تاہم فنڈز کی تاخیر کے باعث اسپتال کی کارکردگی متاثر ہوئی اور عملے کی تنخواہیں رک گئیں۔
ڈی ایچ او طفیل شیرانی کے مطابق اسپتال کے مسئلے کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور لایا گیا، جس میں اسپتال کی بحالی کی فوری ہدایت کی گئی۔ انہوں نے علاقے میں صحت کی سہولیات کی بحالی کو ضروری قرار دیا۔















