پاکستان میں فضائی آلودگی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس سے شہریوں کی اوسط زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو (PAQI) کی قومی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں فضائی آلودگی ایک سنگین صحت ایمرجنسی کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو ہر شہری کی اوسط زندگی میں 3.9 سال کی کمی کا باعث بن رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام 238 ملین شہری عالمی معیار کے مطابق غیر محفوظ فضا میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نومبر 2024 میں لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح 1900 تک پہنچ گئی جبکہ ملتان 2000 سے بھی اوپر چلا گیا، جسے ماہرین انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک زمرے میں شمار کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے شہری اوسطاً 7 سال کی زندگی آلودہ ہوا کی وجہ سے کھو رہے ہیں۔
لاہور میں آلودگی کے بنیادی ذرائع میں ٹرانسپورٹ 35 فیصد، بھاری صنعت 28 فیصد اور اینٹوں کے بھٹے 17 فیصد شامل ہیں، جبکہ کراچی میں مسئلہ زیادہ تر صنعتی اخراج سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ فضائی آلودگی ملکی معیشت کو سالانہ 6.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر نقصان پہنچا رہی ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ مسئلے کی جڑ گورننس کی ناکامی ہے، کیونکہ کئی دہائیوں سے موجود ماحولیات کے قوانین اور قومی ماحولیاتی معیاروں پر عمل درآمد مؤثر انداز میں نہیں ہو رہا۔ سینیٹر شیری رحمان نے اس رپورٹ کو “فیصلہ کن موڑ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے شیلف پر رکھنے کے بجائے پالیسی فیصلوں کی بنیاد بنایا جائے۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے اسے “زندہ دستاویز” قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی یہ رپورٹ پاکستان میں پہلی مرتبہ جامع، کثیرالجہتی اخراجی ڈیٹا پیش کرتی ہے، جو پالیسی ساز اداروں کو فضائی آلودگی کا سائنسی تجزیہ کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ صاف ایندھن، سخت انسپکشن نظام، اینٹوں کے بھٹوں کی ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن، اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ ہی سموگ سے بچاوٴ اور فضائی آلودگی کے طویل مدتی حل ثابت ہوسکتے ہیں۔















