ٹیکسٹائل انڈسٹری بحران کا شکار، اضافی ٹیکسز اور بجلی مسائل کا سامنا۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ٹیکسٹائل انڈسٹری بحران میں مبتلا ہے اور حکومت کو اس کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ٹیکسٹائل فیڈریشن چیمبر کے رہنما اور پیٹرن انچیف یو بی جی ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز سے دو فیصد اضافی ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ کراچی اور لسبیلہ میں نئی بجلی کنکشن کی فراہمی روک دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صنعتی ٹیرف مئی 2025ء میں 10 سینٹ تھا جو اب نومبر 2025ء میں 12.6 سینٹ تک پہنچ گیا ہے، اور صنعتوں پر آر ایل این جی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بے حد بل بھیجے جا رہے ہیں۔
پیٹرن انچیف نے الزام لگایا کہ ای ایف ایس کی آڑ میں دھوکہ دہی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی جبکہ ایف بی آر فیکٹریوں کو سرویلنس کیمروں کے لیے 50 لاکھ روپے کے بلز بھیج رہا ہے۔
ایس ایم تنویر نے یہ بھی کہا کہ ملک بھر میں سو ٹیکسٹائل فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، اور یہ تمام مسائل اینٹی ایکسپورٹ اقدامات کا نتیجہ ہیں۔














