شہری انتظامیہ اور پنشن اخراجات میں اضافہ، کفایت شعاری کے باوجود حکومتی مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ مالیاتی اعدادوشمار کے مطابق وفاقی حکومت کے سول انتظامیہ اور پنشن کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، حالانکہ حکومت نے سخت کفایت شعاری پالیسی اور بڑے پیمانے پر رائٹ سائزنگ کا اعلان کیا تھا۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سول حکومتی اخراجات 13 فیصد اضافے کے ساتھ 161.2 ارب روپے تک پہنچ گئے، جو گزشتہ برس اسی عرصے میں 142.5 ارب روپے تھے۔
اعدادوشمار کے مطابق یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت گزشتہ برس 150 ہزار سے زائد سرکاری اسامیاں ختم کر چکی ہے اور اس سال مزید 54 ہزار آسامیوں کی منسوخی کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اس عمل سے سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ممکن ہوگی، جبکہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے انضمام اور تنظیمِ نو کا عمل جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق سول انتظامیہ کے اخراجات پچھلے چند برسوں سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ اضافہ 8 فیصد تھا، جبکہ اس سے پہلے والے سال میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ مالی سال 22 کی پہلی سہ ماہی میں یہ اخراجات 89.5 ارب روپے تھے، جو اب تقریباً 80 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ پورے مالی سال 24 میں سول انتظامیہ کا خرچ 892 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔
پنشن کے اخراجات میں بھی مستقل اضافہ جاری ہے۔ رواں سال پہلی سہ ماہی میں پنشن ادائیگیاں 10 فیصد اضافے کے ساتھ 249.5 ارب روپے رہیں، جو گزشتہ برس 223 ارب روپے تھیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں پنشن بل تقریباً 125 فیصد بڑھ چکا ہے، جبکہ مالی سال 22 کی پہلی سہ ماہی میں پنشن ادائیگیاں 111 ارب روپے تھیں۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر پنشن کا سالانہ بل 911 ارب روپے تک جا پہنچا تھا۔
اس کے برعکس، سبسڈی ادائیگیوں میں بڑے اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے۔ پہلی سہ ماہی میں سبسڈی کی مد میں 120 ارب روپے ادا کیے گئے، جو گزشتہ برس محض 20 ارب روپے تھے۔ مالی سال 24 کی پہلی سہ ماہی میں صرف 2.5 ارب روپے کی سبسڈی جاری کی گئی تھی، جبکہ اس سے پہلے دو برسوں میں یہ ادائیگیاں 93 ارب اور 74 ارب روپے تھیں۔ گزشتہ مالی سال میں سبسڈی کا مجموعی بل 1.298 کھرب روپے تک پہنچ گیا تھا۔
واضح رہے کہ حکومت نے 2021 سے تمام شعبوں میں کفایت شعاری پالیسی جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ مالی سال 26 کے لیے بھی نئی گاڑیوں، مشینری، آلات اور نئی آسامیوں پر مکمل پابندی برقرار رکھنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود بعض وزارتوں اور محکموں نے مختلف بنیادوں پر ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔














