پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بجلی پیکج میں ترامیم کی تجویز دیتے ہوئے لوڈ فیکٹر کی شرط 40 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PTEA) نے صنعتی اور زرعی شعبوں کے لیے تین سالہ بجلی کے اضافی پیکج میں ترامیم کی تجویز دی ہے۔ اس پیکج کا مقصد غیر فعال پیداواری صلاحیت کو بروئے کار لانا اور معیشت کے کلیدی شعبوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
تاہم، صنعتی نمائندوں نے کئی خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ نیپرا نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ پاور ڈویژن نے وفاقی کابینہ کی منظوری سے قبل صنعتی صارفین، جو کہ اس پیکج کے بنیادی مستفید کنندگان ہیں، سے مشاورت کیوں نہیں کی۔
PTEA کے پیٹرن ان چیف خرم مختار نے وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو لکھے گئے خط میں متعدد تضادات کی نشاندہی کی ہے جو غیر دانستہ طور پر اس اقدام کے بنیادی مقصد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مختار نے کہا کہ لوڈ فیکٹر کی شرط 40 فیصد سے زائد نہیں ہونی چاہیے، تاکہ اسپننگ، ویونگ، پروسیسنگ اور دیگر مستقل عمل والے شعبے بھی مؤثر طریقے سے حصہ لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وسیع تر شرکت کی اجازت دینا ضروری ہے تاکہ پاور ڈویژن کا مقصد بجلی کی طلب میں اضافہ اور صلاحیت کی ادائیگیوں میں کمی ممکن ہو سکے۔
PTEA نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا کل صنعتی منظور شدہ لوڈ 19,810 میگاواٹ ہے، تاہم NEPRA کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق FY24 میں صنعتی کھپت صرف 22,532 گیگاواٹ آور رہی۔ ایسوسی ایشن نے زور دیا کہ 60 فیصد لوڈ فیکٹر کی شرط غیر حقیقت پسندانہ ہے اور اس کی بجائے 40 فیصد کی شرط ہونی چاہیے۔














