وفاقی دفتر خزانہ میں کرپشن اسکینڈل بے نقاب

وفاقی دفتر خزانہ اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر کرپشن اسکینڈل بے نقاب، 71 افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی دفتر خزانہ (ایف ٹی او) اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر منظم بے ضابطگیوں کا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، غیر قانونی طریقے سے ایف ٹی او سے اسٹامپ پیپرز جاری کیے گئے اور اسٹامپ پیپر فیس، کورٹ فیس اور فارن بلز کو خزانے میں جمع نہ کرایا گیا۔ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے سینئر آڈیٹر عادل مقبول سمیت 71 افسران و اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ مقدمہ مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے اور ایف آئی اے کے مطابق، ڈپٹی ڈائریکٹر افضل خان نیازی کی سربراہی میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے کریک ڈاؤن کیا گیا، جس میں 20 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق، ملزمان نے ایف ٹی او آفس سے جعلی لائسنس جمع کرا کر اسٹامپ پیپرز حاصل کیے، جس سے قومی خزانے کو 29 کروڑ 64 لاکھ 98 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔

ایف آئی اے کی انکوائری مکمل ہونے پر مقدمہ درج کیا گیا اور مزید گرفتاریوں کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق، 10 سالہ فرانزک آڈٹ کے بعد اصل نقصان کا تعین کیا جائے گا۔

دیگر متعلقہ خبریں