مالی سال 2025-26 کے پہلے چار ماہ میں ترسیلات زر میں 9.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ برآمدات اور درآمدات میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) مالی سال 2025-26 کے پہلے چار ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 9.3 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں جولائی سے اکتوبر تک ترسیلات زر کا حجم 11 ارب 85 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ ان چار ماہ کے دوران برآمدات میں بھی 2 فیصد اضافہ ہوا، جس کا حجم 10.6 ارب ڈالر رہا۔
اس عرصے میں درآمدات 9.6 فیصد اضافے کے ساتھ 20.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی تا اکتوبر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 73 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 26 فیصد کمی کے ساتھ 74 کروڑ 77 لاکھ ڈالر رہی۔ ڈالر کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 روپے 60 پیسے زیادہ ہو کر 280 روپے 60 پیسے ریکارڈ کی گئی۔
وزارت خزانہ کے مطابق، جولائی تا اکتوبر ٹیکس ریونیو میں 11.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کا حجم 3834 ارب روپے رہا۔ نان ٹیکس ریونیو میں 0.4 فیصد کمی کے بعد یہ 3008 ارب روپے رہا۔ اس دوران بجٹ 2119 ارب روپے سرپلس رہا، جبکہ پرائمری بیلنس 3497 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ زرعی شعبے کو 845 ارب روپے کے قرضے ملے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18.6 فیصد زیادہ تھے۔ تاہم نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں کمی آئی۔ جولائی تا ستمبر بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.08 فیصد اضافہ ہوا۔















