اکتوبر میں فرنس آئل سے بجلی کی پیداواری لاگت 33 روپے فی یونٹ رہی جبکہ ایل این جی پلانٹس کی کم دستیابی کے باعث مہنگے فیول پلانٹس چلائے گئے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نیپرا کی عوامی سماعت کےدوران حکومت نےآگاہ کیا ہے کہ اکتوبر میں فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 33 روپے فی یونٹ رہی، حالانکہ ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس دستیاب تھے جن کی لاگت 21 روپے فی یونٹ تھی۔ پاور ڈویژن کے مطابق ایل این جی کی کم دستیابی کے باعث مہنگے فیول پلانٹس چلائے گئے۔
سی پی پی اے کے چیف ایگزیکٹو ریحان اختر نے تصدیق کی کہ ساہیوال کوئلہ پاور پلانٹ اور دو جوہری پلانٹس کی بندش کے باعث 40 ملین سے زائد یونٹس فرنس آئل پر پیدا کیے گئے جس سے فیول لاگت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی پلانٹس سے کم لاگت بجلی ممکن تھی مگر اضافی ایل این جی نہ ملنے سے پلانٹس مکمل صلاحیت پر نہیں چل سکے۔
نیپرا کی عوامی سماعت میں سی پی پی اے کے چیف ایگزیکٹو ریحان اختر نے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے یونٹس کی وجہ سے مجموعی فیول لاگت میں کمی آئی۔ ڈسکوز نے نیٹ میٹرنگ صارفین سے 574 ملین یونٹس حاصل کیے جن کی فیول لاگت صفر رہی اور اس سے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کم ہوا۔
سماعت میں کے الیکٹرک کی نیشنل گرڈ سے بجلی کی خریداری کا ذکر ہوا جس سے اگست تا ستمبر فی یونٹ لاگت میں 9 پیسے سے 34 پیسے تک کمی ہوئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اکتوبر کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ میں 65 پیسے فی یونٹ کمی متوقع ہے، جو ستمبر کی 48 پیسے فی یونٹ منفی ایڈجسٹمنٹ کی جگہ لے گی۔















