2025 میں آٹیفیشل انٹیلی جنس کے روزگار پر اثرات کے حوالے سے بحث بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں کم مہارت والے شعبے ابتداء میں کم متاثر مگر خطرہ باقی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عالمی سطح پر 2025 میں آٹیفیشل انٹیلی جنس کے روزگار پر اثرات کے حوالے سے بحث بڑھ رہی ہے۔ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے مطابق جنریٹو اے آئی نوکریاں ختم کرنے کے بجائے کام کے طریقے بدل رہی ہے، خاص طور پر دفتری اور انتظامی شعبے متاثر ہو رہے ہیں، جہاں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ ‘فیوچر آف جابز 2025’ بھی اشارہ کرتی ہے کہ کچھ روایتی پیشوں میں کمی آئے گی، مگر اے آئی، ڈیٹا، ماحول دوست صنعتوں، نگہداشت اور تعلیم کے شعبوں میں روزگار بڑھنے کی توقع ہے۔ پی ڈبلیو سی کے ‘اے آئی جابز بیرومیٹر’ کے مطابق اے آئی مہارتوں والے افراد کی اجرت زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل خطرہ بیروزگاری نہیں بلکہ مسابقت میں پیچھے رہ جانے کا ہے۔
جنوبی ایشیا میں اے آئی کے اثرات عالمی رجحانات سے مختلف ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق خطے میں صرف 7 فیصد نوکریاں اے آئی سے براہِ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خطے میں 15 فیصد نوکریاں ‘اے آئی تکمیلی’ ہیں، جہاں اے آئی مزدوروں کی جگہ لینے کے بجائے ان کی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہے۔
پاکستان میں کم مہارت یا غیر رسمی شعبوں سے وابستہ افراد کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ابتدا میں کم اثر دکھائی دیتا ہے۔ لیکن لُمز MHRC کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں 17 فیصد نوکریاں اے آئی یا خودکاری کے خطرے سے دوچار ہیں۔ خاص طور پر مینوفیکچرنگ، کسٹمر سروس اور زراعت کے حصے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں حقیقی خطرہ یہ نہیں کہ نوکریاں ختم ہو جائیں گی، بلکہ یہ ہے کہ بہتر، زیادہ تنخواہ والی آٹو میشن اور اے آئی تکمیلی نوکریاں بڑھ رہی ہیں اور پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہ سکتا ہے۔















