لاہور اور دیگر شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ملک کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے، جس سے عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بدھ کی صبح 11 بج کر 25 منٹ تک گوجرانوالہ، پشاور، فیصل آباد اور لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) انتہائی مضر صحت قرار دیا گیا۔ گوجرانوالہ کے ایم سی آفس اور پشاور کی اشرافیہ کالونی میں اے کیو آئی 560 تک پہنچ گیا، جو خطرناک ترین درجہ ہے۔
فیصل آباد کے این ایف سی آئی ای اینڈ ایف آر میں انڈیکس 536 جبکہ گوجرانوالہ کی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں یہ سطح 534 ریکارڈ کی گئی۔ لاہور کے سول سیکرٹریٹ بی اے ایم اسٹیشن پر اے کیو آئی 533 رپورٹ ہوا۔ دیگر متاثرہ مقامات میں فیصل آباد کا ایف ڈی اے سٹی 508، زرعی یونیورسٹی 486، گلستان کالونی 479 اور لاہور کا ایف سی کالج 478 شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پی ایم 2.5 کی مقداری سطح بھی خطرناک حدوں تک بلند ہے۔ گوجرانوالہ کے ایم سی آفس میں 512.6 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر اور پشاور کی اشرافیہ کالونی میں 511.6 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کیے گئے۔ فیصل آباد کے دیگر مقامات پر یہ مقدار 487 سے 405 مائیکرو گرام تک رہی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس سطح کی آلودگی سانس، دل اور ذہنی صحت پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز، این-95 ماسک پہننے اور گھروں میں ہوا صاف رکھنے کے مشورے دیے گئے ہیں۔ لاہور میں بدھ کی صبح 11 بج کر 30 منٹ تک فضائی آلودگی کی صورتحال تشویشناک حدوں کو چھو رہی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قدر بلند آلودگی سانس، دل اور آنکھوں کی بیماریوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔ شہریوں کو باہر نکلنے میں احتیاط، این-95 ماسک کے استعمال، کمروں میں ہوا کی صفائی اور بچوں و بزرگوں کو گھر میں رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔















