پاکستان کے نوجوان بڑھتی بے چینی اور سماجی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ذہنی صحت کے مشیروں کی عدم موجودگی کو سنگین مسئلہ قرار دیا گیا۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان مینٹل ہیلتھ کولیشن کے سالانہ اجلاس میں نوجوانوں نے بتایا کہ بڑھتی بے چینی، تنہائی اور سماجی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک بھر سے آئے نوجوانوں، ماہرین اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکا نے بتایا کہ پاکستان کی 65 فیصد نوجوان آبادی شدید ذہنی اور معاشرتی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ کووڈ کے بعد تنہائی میں اضافہ ہوا اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت بڑھ گئی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں ذہنی صحت کے مشیروں کی عدم موجودگی کو سنگین مسئلہ قرار دیا گیا۔
نوجوانوں نے خوفِ تضحیک، صنفی تعصب اور ذہنی صحت پر خاموشی کو بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔ شرکا کے مطابق گھر اور تعلیمی اداروں میں دباؤ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اسے ‘پریشر کوکر ماحول’ کہا جانے لگا ہے۔
ماہرین نے ثقافتی لحاظ سے موزوں ذہنی صحت گائیڈز کی تیاری پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کو نوجوانوں کے لیے طویل المدتی ذہنی صحت حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں کمیونٹی انگیجمنٹ، سرگرمیوں میں شرکت اور پیر سپورٹ گروپس کو مؤثر سہارا قرار دیا گیا۔ شرکا نے نصاب سازی، کونسلنگ سسٹمز اور کمیونٹی منصوبہ بندی میں نوجوانوں کی آواز شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔















