روس کی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی نیری نے کبوتروں کے دماغ میں الیکٹروڈ نصب کر کے انہیں ‘بائیو ڈرونز’ کے طور پر استعمال کرنے کا تجربہ کیا ہے۔
ماسکو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) روس کی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی نیری نے کبوتروں کے دماغ میں الیکٹروڈ نصب کر کے انہیں ‘بائیو ڈرونز’ کے طور پر استعمال کرنے کا تجربہ کیا ہے، جس کے بعد نگرانی اور جاسوسی کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کمپنی نے کبوتروں کے دماغی نظام میں الیکٹروڈ نصب کیے جن کے ذریعے ان کی پرواز کو دور سے کنٹرول کیا گیا۔
نیری کے مطابق، انہوں نے نیورل انٹرفیس سے مزین اپنے پہلے جھنڈ کا کامیاب تجرباتی فضائی سفر مکمل کر لیا ہے۔ یہ پرندے لیبارٹری سے اڑان بھر کر واپس پہنچے۔ کچھ کبوتروں کو ہزاروں کلومیٹر دور بھیجا گیا جبکہ کچھ پروازیں ماسکو تک محدود رہیں۔
تجربہ میں استعمال ہونے والا نظام پرندے کے دماغ کے مخصوص حصوں میں نصب الیکٹروڈز، سٹیمولیٹر اور کنٹرولر پر مشتمل ہے۔ کنٹرولر میں پہلے سے طے شدہ پرواز کا راستہ موجود ہوتا ہے، جبکہ پوزیشننگ کے لیے جی پی ایس استعمال کیا جاتا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ سرگرمی قانونی تقاضوں کے مطابق ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے پرائیویسی اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ نیری کا کہنا ہے کہ بائیو ڈرونز کو گیس اور بجلی کے انفراسٹرکچر کی نگرانی، ماحولیاتی جائزوں، تلاش و بچاؤ مشنز اور صنعتی معائنوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
نیری کے بانی الیگزینڈر پانوو کے مطابق موجودہ کٹ کو دیگر پرندوں پر بھی آزمایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر زیادہ وزن اٹھانا ہو تو کوّے ساحلی تنصیبات کی نگرانی کے لیے، سیگلز سمندری علاقوں کے لیے اور الباٹروس بڑے سمندری خطوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔














