خطے میں گلیشیئرز کے پگھلاؤ سے خشک موسم کی شدت میں اضافہ

ماہرین نے خبردار کیا کہ خطے میں گلیشیئرز کے پگھلاؤ سے خشک موسم کی شدت بڑھ رہی ہے، جس پر آگاہی ضروری ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خشک موسم کی شدت کو محض مقامی مسئلہ نہ سمجھا جائے کیونکہ اس کے پیچھے خطے بھر میں گلیشیئرز کے تیز رفتار پگھلاؤ جیسے عوامل شامل ہیں۔ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی جانب سے منعقدہ نشست میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

تقریب میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ دستاویزی سلسلہ ’’وائسز فرام دی روف آف دی ورلڈ‘‘ دکھایا گیا، جس میں ہمالیہ سے پامیر تک خطے میں مقامی آبادیوں اور جنگلی حیات پر موسمیاتی تبدیلی کے گہرے اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ خشک موسم کو خطے کے وسیع تر تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

اے کے ڈی این پاکستان کی مواصلاتی ڈائریکٹر لیلہ ناز تاج نے کہا کہ گلیشیئرز کا تحفظ پورے خطے کی آبادی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ مقامی معلومات کی بنیاد پر منصوبے بناتا ہے جن میں انسانی ترقی اور فطرت میں ٹکراؤ نہ ہو، شجرکاری اور صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جاتا ہے۔

نئے سیزن میں فضائی آلودگی، بڑھتی گرمی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، پانی کی قلت اور متاثرہ کمیونٹیز کی جدوجہد جیسے موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ خطہ جسے تیسرا قطب بھی کہا جاتا ہے، تقریباً ۱.۶ ارب افراد کو زندگی بخش پانی فراہم کرتا ہے۔

دستاویزی سلسلے کے ایگزیکٹو پروڈیوسر اینڈریو ٹکاچ نے کہا کہ یہ فلمیں پہاڑی علاقوں کی بے آواز کمیونٹیز اور جنگلی حیات کی کہانیوں کو سامنے لاتی ہیں، اور مقامی فلم سازوں کی کاوشوں کو سراہا۔

دیگر متعلقہ خبریں