پاکستان میں ذیابیطس اور موٹاپے کا بحران سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، مؤثر پالیسیوں کا فقدان اور اسکریننگ کی کمی سبب بن رہی ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں ذیابیطس کا بحران بدترین صورت اختیار کر چکا ہے جبکہ موٹاپے کے اصل محرک کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کے مطابق ۲۰۲۴ تک ملک میں ۳ کروڑ ۴۰ لاکھ سے زائد بالغ افراد ذیابیطس میں مبتلا تھے۔
ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس پر کنٹرول دنیا میں سب سے کم ہے اور ہر چار میں سے ایک شخص اس مرض سے لاعلم ہے۔ ملک اس وقت امراضِ قلب، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے اور ذیابیطس جیسے غیر متعدی امراض کے ’’دوہرے بوجھ‘‘ کا سامنا کر رہا ہے۔
جامعہ برمنگھم کے ڈاکٹر وسیم حنیف نے کہا کہ پاکستان میں ۱۰ کروڑ سے زیادہ افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق موٹاپا اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ”غیر معمولی ماحول کے مطابق جسم کا ردعمل” ہے، جس میں پروسیسڈ خوراک اور کم سرگرمی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق موٹاپے کو طویل مدتی میٹابولک بیماری کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ نوو نوردِسک پاکستان کے مطابق موٹاپا جینیاتی، جسمانی، ماحولیاتی اور دماغی عوامل کا مجموعہ ہے۔
تجزئیوں کے مطابق پاکستان میں موٹاپے اور ذیابیطس سے متعلق مؤثر پالیسیوں کا فقدان ہے۔ نان کمیونی کیبل ڈیزیزز پر قومی بریف کے مطابق ۵۸ فیصد اموات ایسے امراض سے ہوتی ہیں۔
اگا خان یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق شہری و دیہی دونوں آبادیوں میں وزن میں اضافے کے باوجود پرائمری ہیلتھ کیئر میں اسکریننگ کو ترجیح نہیں دی جاتی، جس سے مریض برسوں تک بغیر علاج کے رہ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق طرزِ زندگی میں تبدیلی، وزن میں کمی اور جسمانی سرگرمی ذیابیطس کے خطرے میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔ بین الاقوامی پروگراموں نے ثابت کیا ہے کہ طرزِ زندگی کی مداخلتیں ذیابیطس کی روک تھام میں ۵۸ فیصد تک مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔















