سیلز ٹیکس سے موبائل فون کی مقامی پیداوار میں نمایاں کمی

موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کے نفاذ سے مقامی پیداوار میں قابل ذکر کمی ہوئی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حکومت کی جانب سے موبائل فونز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کے بعد اکتوبر میں مقامی اسمبلی کی پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پی ٹی اے کے اعداد و شمار کے مطابق مقامی مینوفیکچرنگ سالانہ بنیاد پر 34 فیصد کم ہو کر 35 لاکھ سے گھٹ کر 23 لاکھ 30 ہزار یونٹ رہ گئی، جبکہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں بھی 23 فیصد کمی ہوئی۔

پی ایم پی ایم اے کے نائب چیئرمین ذیشان میاں نور کے مطابق بجٹ سے قبل ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز نے بڑے پیمانے پر ذخیرہ کر لیا تھا، مگر سیلز ٹیکس بڑھنے سے طلب کم ہو گئی اور قیمتیں بڑھنے کے باعث صارفین نے نئی خریداری میں احتیاط برتنی شروع کر دی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے پہلے دس ماہ میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 51 لاکھ 10 ہزار موبائل فونز مقامی طور پر تیار کیے گئے، جن میں 53 فیصد یعنی 1 کروڑ 32 لاکھ اسمارٹ فونز اور 47 فیصد یعنی 1 کروڑ 19 لاکھ فیچر فونز شامل ہیں۔

ملک میں فروخت ہونے والے 97 فیصد سے زائد موبائل فون اب مقامی طور پر تیار ہوتے ہیں، جبکہ رواں برس کے دس ماہ میں صرف 6 لاکھ 75 ہزار فون درآمد کیے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ درآمد ہونے والا برانڈ آئی فون رہا جس کی تعداد 2 لاکھ 38 ہزار رہی، جبکہ نوکیا نے 2 لاکھ 8 ہزار فیچر فون درآمد کیے۔

پچھلے سال مجموعی طور پر 32.8 ملین فونز مقامی طور پر تیار ہوئے تھے جبکہ درآمدات 792 ہزار سے بھی کم تھیں۔ رواں سال مقامی مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا برانڈ انفینکس رہا جس نے 29 لاکھ یونٹس تیار کیے، اس کے بعد ویگوٹیل 27 لاکھ، ویوو 23 لاکھ، آئی ٹیل 21 لاکھ، ٹیکنو 14 لاکھ، شیاؤمی 14 لاکھ اور سام سنگ 13 لاکھ یونٹس کے ساتھ نمایاں رہے۔ فیچر فونز میں جی فائیو سرفہرست رہا جس نے 11 لاکھ 70 ہزار یونٹس تیار کیے۔

واضح رہے کہ پی ٹی اے کا ڈی آئی آر بی ایس نظام غیر ٹیکس شدہ درآمدی فونز کے استعمال کو محدود کرتا ہے، جس سے مقامی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہوا تھا، تاہم نئے ٹیکس کے بعد مارکیٹ میں کھپت کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں