ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کو ریاستی طرز پر فیصلے کرنے کی تنبیہ کی اور دہشتگردی کے خلاف موقف واضح کیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)پاکستان کی نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ہیں، دہشتگردوں میں تفریق نہیں کی جا سکتی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اہم پریس بریفنگ میں پاکستان کی سلامتی، افغان طالبان کے طرزِ حکمرانی اور دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر جامع مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جب بھی کوئی کارروائی کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے اور کبھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتا۔
انہوں نے افغان طالبان حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نان اسٹیٹ ایکٹر نہیں بلکہ ایک ریاست کی طرح فیصلے کرنا ہوں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، یہ ممکن نہیں کہ ہم پر حملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے عوام کا مخالف نہیں، بلکہ صرف دہشتگردی کے خلاف ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ۴ نومبر سے اب تک ۴۹۱۰ انسدادِ دہشتگردی آپریشن کیے گئے ہیں۔ بریفنگ کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک سیاسی جماعت اور کچھ دیگر عناصر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرونِ ملک سے چلائے جا رہے ہیں۔















