ملائیشیا میں کھٹمل جرائم تفتیش میں معاون بن گئے

ملائیشیا کے سائنسدانوں نے کھٹمل کو جرائم کی تفتیش میں استعمال کرنے کا نیا طریقہ دریافت کیا ہے، جو اہم ثبوت فراہم کر سکتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

پینانگ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ملائیشیا کی ریاست پینانگ میں یونیورسٹی سائنز ملائیشیا (USM) کے سائنسدانوں نے کھٹمل کو جرائم کی تفتیش میں استعمال کرنے کا نیا طریقہ دریافت کیا ہے۔ یہ کیڑے انسان کے خون میں موجود ڈی این اے کو 45 دن تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق، کھٹمل کی موجودگی جرم کی جگہ پر اہم ثبوت فراہم کر سکتی ہے، کیونکہ یہ کیڑے بستر کے تختے، گدے کے کناروں اور تکیوں میں چھپ جاتے ہیں۔ اگر جرم کی جگہ پر کھٹمل پائے جائیں تو ان کے ذریعے مجرم کی شناخت ممکن ہے۔

محققین کے مطابق کھٹمل سے حاصل کیے گئے خون کا تجزیہ جدید ڈی این اے جانچ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، جس سے شخص کی ظاہری خصوصیات بھی معلوم کی جا سکتی ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ عبدالحفیظ ابو مجید کے مطابق، کھٹمل کے ڈی این اے سے حاصل معلومات ایسے مقدمات میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں جہاں جسمانی ثبوت مٹا دیے گئے ہوں۔

دیگر متعلقہ خبریں