پائیڈ کی رپورٹ میں انکشاف کہ 2600 ارب روپے کا گردشی قرضہ غریب طبقے پر بوجھ بن رہا ہے، اصلاحات کی سفارش
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2600 ارب روپے سے زائد گردشی قرضے کا بوجھ زیادہ تر غریب طبقے پر ڈالا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دس سالوں میں توانائی شعبے میں بجلی کے ٹیرف میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ غیر توانائی ٹیرف کا 60 فیصد بوجھ غریب گھرانوں پر منتقل کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت 2025 میں 45 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، لیکن گردشی قرضہ 2600 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جس کا زیادہ بوجھ غریب گھرانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پائیڈ نے رپورٹ میں بتایا کہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے غریب صارفین کے لیے ٹیرف 11.72 سے بڑھ کر 22.44 روپے ہو چکا ہے۔ غیر توانائی لاگت کا 60 فیصد بوجھ غریب طبقے پر اور 30 فیصد امیر طبقے پر منتقل ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 10 ڈسکوز کی ناکامی اور نقصانات نے توانائی شعبے کو قرضوں میں جکڑ دیا ہے، جبکہ صارفین سے اضافی بلز کی وصولی جاری ہے۔ پائیڈ نے فوری اصلاحات اور منصفانہ ٹیرف اسٹرکچر کی سفارش کی ہے۔














