اسلام آباد کے بحریہ انکلیو میں سردیوں کے دوران ہیٹنگ کی طلب شاہ اللہ دتہ سے زیادہ ہوتی ہے، جس سے توانائی کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
اسلام آباد کے دو نمایاں رہائشی علاقوں بحریہ انکلیو اور شاہ اللہ دتہ میں موسمِ سرما کی حرارتی ضرورت کا تقابلی جائزہ اس سال بھی نمایاں فرق دکھاتا ہے۔ ویدر والے کی جانب سے جاری کردہ مفصل تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں علاقے ایک ہی شہر میں ہونے کے باوجود الگ مائیکرو کلائمٹ رکھتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر گھریلو حرارتی ضرورت اور توانائی کے اخراجات پر پڑتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حرارتی ڈگری دن وہ پیمانہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرد موسم میں گھروں کو گرم رکھنے کے لیے کتنی توانائی درکار ہو گی۔ جتنے زیادہ حرارتی ڈگری دن ریکارڈ ہوں، اتنی ہی زیادہ گیس اور بجلی کی کھپت ہوتی ہے۔
رپورٹ میں تین مسلسل سردیوں کے اعداد و شمار شامل ہیں۔ بحریہ انکلیو میں 2022-23 کے دوران 809 حرارتی ڈگری دن ریکارڈ ہوئے، جو 2023-24 میں بڑھ کر تقریباً 848 تک پہنچ گئے۔ 2024-25 کی سردیوں میں موسم نسبتاً معتدل رہا اور یہ کمی کے بعد 709 تک آ گئے۔ دوسری جانب شاہ اللہ دتہ میں 2022-23 میں 501 ڈگری دن ریکارڈ ہوئے، جو اگلے سال بڑھ کر 722 تک پہنچے، تاہم 2024-25 میں دوبارہ کم ہو کر 550 رہ گئے۔
مجموعی طور پر تینوں سالوں میں بحریہ انکلیو کی حرارتی ضرورت مسلسل زیادہ رہی۔ 2022-23 میں یہ فرق 57 فیصد تھا، 2023-24 میں کم ہو کر 17 فیصد رہ گیا، جبکہ 2024-25 میں دوبارہ بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گیا۔ اوسطاً بحریہ انکلیو کی حرارتی ضرورت شاہ اللہ دتہ کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ پائی گئی۔
توانائی کے تخمینوں میں بھی یہی فرق واضح نظر آتا ہے۔ 2023-24 میں بحریہ انکلیو کی حرارتی ضرورت 22,784 یونٹ تک ریکارڈ کی گئی، جبکہ شاہ اللہ دتہ میں یہی مقدار 19,437 یونٹ رہی۔ تینوں سالوں میں بحریہ انکلیو کے لیے گیس اخراجات بھی مسلسل زیادہ رہے، جو اس علاقے میں نسبتاً سخت اور مستقل سردی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بحریہ انکلیو کا موسم ہر سال نسبتاً یکساں رہتا ہے، اس لیے یہاں رہنے والوں کو حرارتی اخراجات میں زیادہ تبدیلی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے برعکس شاہ اللہ دتہ میں موسم کبھی سخت اور کبھی معتدل رہتا ہے، جس کے باعث وہاں کے مکینوں کے لیے سالانہ اخراجات میں نمایاں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق نہ صرف گھریلو بجٹ سازی بلکہ شہری منصوبہ بندی اور توانائی کے مؤثر انتظام کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔















