پاکستان میں بڑھتا تجارتی خسارہ، ٹیرف پالیسی ناکافی

پاکستان میں تجارتی خسارہ بڑھ گیا، ٹیرف پالیسی ناکافی، جامع اقدامات کی ضرورت۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی بتائی گئی ہے۔ مالی سال 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصد کم جبکہ درآمدات میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔

تجارتی خسارے کے باعث جاری کھاتوں کا خسارہ 733 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو کہ گزشتہ سال اسی مدت میں 206 ملین ڈالر تھا۔ حقیقی موثر شرح تبادلہ اکتوبر 2025 میں بڑھ کر 103.95 ہوگئی ہے، جبکہ روپے کی قدر 280 کے قریب مستحکم رہی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کو بین الاقوامی تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ صرف ٹیرف پالیسی 2025-2030 ناکافی ثابت ہو رہی ہے اور غیر ٹیرف رکاوٹوں اور کاروباری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی درآمدات میں ایندھن کا حصہ 25 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ مشرقی ایشیائی ممالک میں یہ شرح 10 فیصد سے کم ہے۔ ان ممالک کی درآمدات زیادہ تر ٹیکنالوجی سے وابستہ مصنوعات پر مشتمل ہوتی ہیں جو پیداواری صلاحیت بڑھاتی ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ایسی پالیسیاں اپنائے جو بین الاقوامی تجارت کو محدود کرنے کی بجائے اس کے فروغ کا باعث بنیں تاکہ قیمتوں اور معیار پر مثبت اثر پڑے۔

دیگر متعلقہ خبریں