آئی ایم ایف نے پاکستان سے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ضمنی گرانٹس کے آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجٹ تیاری میں ڈیٹا کے درست استعمال، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ضمنی گرانٹس کے آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے تکنیکی وفد نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ٹیکس چوری اور کرپشن کو کم کرنے پر زور دیا۔
آئی ایم ایف نے جنوری میں بجٹ سازی پر تکنیکی رپورٹ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ میں ٹیکس چوری سے قومی خزانے کو نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کرپشن، ٹیکس چوری، حقیقی آمدن چھپانے اور پیچیدہ قوانین کو کم ٹیکس وصولی کی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد ڈیڑھ کروڑ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور جعلی رسیدوں پر قابو پانے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 59 لاکھ ٹیکس گوشواروں میں سے 43 فیصد نے صفر آمدن ظاہر کی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق ٹیکس چوری سے بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.9 فیصد ہے اور 2024 میں 168 رعایتی ایس آر اوز کا اجرا ٹیکس نظام کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
رپورٹ میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عوامل جیسے غیر رسمی معیشت کی نشاندہی کی گئی ہے اور احتساب کی کمی، بدعنوانی اور ریفنڈ نظام میں شفافیت پر زور دیا گیا ہے۔














