روس کے قصبے اویمیا کون میں درجہ حرارت منفی 42 ڈگری تک گر گیا، قصبہ سرد ترین رہائشی مقام میں شمار ہوتا ہے۔
اویمیا کون، روس: (رائیٹ ناوٴ نیوز) روس کے سرد ترین قصبے اویمیا کون میں درجہ حرارت منفی 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے۔ یہ قصبہ سائبریا کے علاقے میں واقع ہے جہاں آنے والے دنوں میں درجہ حرارت منفی 49 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی جا سکتا ہے۔ اس قصبے میں 500 سے 900 افراد مقیم ہیں اور یہاں 1933 میں سب سے کم درجہ حرارت منفی 67.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
یہ قصبہ یاکوتسک شہر سے 577 میل دور ہے، جسے دنیا کا سرد ترین شہر مانا جاتا ہے۔ یہاں کے رہائشی سردی کی شدت کے باعث منجمد گوشت کھانے پر مجبور ہیں اور گاڑیوں کو 24 گھنٹے چلائے رکھتے ہیں تاکہ انہیں دوبارہ چلانا ممکن ہو۔ قصبے میں گھروں کے باہر ٹوائلٹ بنائے جاتے ہیں کیونکہ شدید سردی کی وجہ سے پائپ منجمد ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یہ قصبہ ایک وادی میں واقع ہے اور اس کے ارد گرد اونچی پہاڑیاں ہیں، جس کے باعث بھاری سرد ہوا وادی کی سطح پر پھنس جاتی ہے، نتیجتاً درجہ حرارت ریکارڈ حد تک کم ہو جاتا ہے۔ یہاں ہر سال ایک میراتھن ریس بھی ہوتی ہے، جس میں لوگ 35 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں۔














