پاکستان میں کرپشن پر مبنی منی لانڈرنگ کا خطرہ تشویشناک

آئی ایم ایف نے پاکستان میں کرپشن بیسڈ منی لانڈرنگ کے خطرات کی نشاندہی کی، فیٹف کی شرائط پر عمل درآمد کے باوجود خطرات برقرار ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) آئی ایم ایف نے پاکستان میں کرپشن بیسڈ منی لانڈرنگ کے خطرات کی نشاندہی کی ہے، حالانکہ فیٹف کی شرائط پر عمل درآمد میں پیش رفت ہوئی ہے۔

آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن اسیسمنٹ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے کوششیں کی ہیں، لیکن کرپشن بیسڈ منی لانڈرنگ کے نمایاں خطرات اب بھی موجود ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے نے زور دیا ہے کہ کرپشن کے ذریعے لوٹی گئی دولت کو بیرون ملک سے واپس لانے کے لئے دیگر ممالک سے قانونی مدد لی جائے اور ایسٹ ریکوری کا عمل تیز کیا جائے۔ کرپشن کی روک تھام کیلئے پندرہ نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا شروع کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریئل اسٹیٹ اور ہول سیل ٹریڈ میں نقد لین دین کے سبب خطرات بڑھتے ہیں۔ شوگر سیکٹر میں بااثر مالکان کے حکومتی پالیسیوں پر اثرورسوخ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جو چینی کی برآمدات اور قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

رپورٹ نے مزید کہا کہ 2018-19 میں پی ٹی آئی حکومت کے دور میں سبسڈی کے ساتھ چینی کی برآمدات سے قلت اور مہنگائی پیدا ہوئی۔ ایف آئی اے کی انکوائری میں سیاسی شخصیات اور شوگر ملز مالکان کے درمیان گٹھ جوڑ ثابت ہوا، لیکن کوئی احتساب نہیں ہوا۔

دیگر متعلقہ خبریں