حماس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غزہ کے لیے قرارداد اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کو مسترد کر دیا، اسے فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف قرار دیا۔
غزہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حماس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غزہ کے لیے منظور کردہ قرارداد اور اس کے تحت بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرارداد فلسطینی عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق کو پورا نہیں کرتی۔
حماس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قرارداد غزہ پر ایک بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرتی ہے، جسے عوام اور تمام مزاحمتی دھڑے قبول نہیں کرتے۔
حماس کے مطابق بین الاقوامی فورس کو غزہ کے اندر کارروائیوں، بالخصوص مزاحمتی دھڑوں کے غیر مسلح کرنے کا اختیار دینے کا مطلب ہے کہ یہ فورس غیر جانبدار نہیں رہے گی بلکہ قابض اسرائیل کے حق میں فریق بن جائے گی۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی بین الاقوامی فورس قائم ہوتی ہے تو اسے صرف سرحدوں پر تعینات ہونا چاہیے، جنگ بندی کی نگرانی کرنی چاہیے اور مکمل طور پر اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہونا چاہیے۔
حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ہر طرح کی مزاحمت کو جائز سمجھتے ہیں، جس کی ضمانت بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت دی گئی ہے، ہتھیار ڈالنے کو مسترد کرتے ہیں۔
بیان میں عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے اپیل کی گئی کہ وہ غزہ کے لیے ایسے فیصلے اپنائیں جو غزہ پر وحشیانہ نسل کش جنگ کے خاتمے، تعمیر نو، اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور فلسطینی عوام کو خودمختاری حاصل کرنے اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے انصاف فراہم کریں۔















