پاکستان کی چین سے 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس کی درخواست

پاکستان نے چین سے 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس کی درخواست دی ہے، جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے اجلاس میں تجویز پیش کی گئی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان نے چین سے اپنے نوجوانوں کے لئے 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس کی درخواست کی ہے۔ یہ تجویز چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں پیش کی گئی۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ چینی حکام نے اس تجویز میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور مزید تفصیلات طلب کی ہیں۔

پاکستان نے چین کی ٹاپ 25 یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ اور ابھرتی سائنسز میں آئندہ 10 برس کے دوران 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس مختص کرنے کی درخواست کی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ملک کی 60 فیصد آبادی 30 برس سے کم عمر ہے اور جدید شعبوں میں تربیت سے معیشت کی ترقی میں مدد ملے گی۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 15 سے 24 برس عمر کے پاکستانی نوجوانوں میں سے 37 فیصد نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ملازمت یا تربیت میں مصروف ہیں۔ مہنگائی، معاشی مسائل، سیاسی بے یقینی اور موسمیاتی جھٹکوں نے نوجوانوں کی صورتحال مزید مشکل بنا دی ہے۔ شہری علاقوں میں نیٹ ریٹ 39 فیصد اور دیہی علاقوں میں 35 فیصد ہے، جبکہ خواتین میں یہ شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر معیشت کی جدیدیت، انسانی ترقی اور نئے شعبوں کی تیاری پر توجہ دے رہا ہے۔ اسکالرشپس کے علاوہ پاکستان نے چین سے پیشہ ورانہ تربیت، نوجوانوں کے لئے انوویشن سینٹرز اور چینی کمپنیوں میں انٹرن شپس شروع کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تعلیمی معیار تشویشناک حد تک کم ہے۔ ایک چوتھائی بچے اسکول نہیں جاتے اور 10 برس کے 78 فیصد بچے آسان متن نہیں پڑھ پاتے۔ سرکاری اسکولوں میں غیرحاضری اور کم معیار تعلیم کی بڑی وجوہات ہیں، جبکہ کم آمدنی والے گھرانوں کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

پاکستان اور چین نے آئی سی ٹی، سائبر سیکیورٹی، فریکوئنسی اسپیکٹرم مینجمنٹ اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر اور جدید ٹیکنالوجی لیبارٹریاں قائم کرنے پر بھی گفتگو کی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں