سینیٹ میں آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ میں ترامیم منظور

سینیٹ نے آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی، آرمی چیف کا نیا عہدہ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا دفتر ختم کرنے کا فیصلہ۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سینیٹ نے وفاقی کابینہ اور قومی اسمبلی کے بعد پاکستان آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا، جسے ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا، جبکہ سینیٹر ہمایوں مہمند اور کامران مرتضیٰ نے بل کی مخالفت کی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستان فضائیہ ایکٹ 1953 میں مزید ترامیم کا بِل اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 میں مزید ترامیم کا بِل بھی ایوان میں پیش کیا، جنہیں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بِل بھی منظور کرلیا گیا، جو وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔

پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے مطابق آرمی چیف کا نیا عہدہ چیف آف دی ڈیفنس فورسز شامل کردیا گیا ہے جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا دفتر 27 نومبر 2025 سے ختم ہوجائے گا۔ مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہو گی، جسے دوبارہ 3 سال کے لیے تعینات کیا جا سکے گا۔

دیگر متعلقہ خبریں