اے آئی ایجنٹس کے استعمال سے فرضی رپورٹوں اور غلط فیصلوں کا خطرہ بڑھ گیا

مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس بطور ملازم اسٹارٹ اپس میں ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، لیکن غلط فیصلوں اور فرضی رپورٹس کا خطرہ بھی موجود ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

سان فرانسسکو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ٹیکنالوجی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس پر مکمل انحصار کرنے والی کمپنیوں میں غلط فیصلوں اور فرضی رپورٹس کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ کچھ اسٹارٹ اپس نے سی ای او، سی ٹی او اور دیگر کلیدی عہدوں پر بھی مصنوعی ایجنٹس کو ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں۔

کمپنی کے بانی ایون ریٹلف نے اعتراف کیا کہ ان کی کمپنی میں تمام ملازمین اور ایگزیکٹو دراصل اے آئی ایجنٹس ہیں۔ یہ ایجنٹس میٹنگز کرتے ہیں، کالز پر رابطہ کرتے ہیں اور منصوبے بناتے ہیں، لیکن بعض اوقات ایسی سرگرمیوں کی رپورٹس تیار کر دیتے ہیں جو کبھی ہوئی ہی نہیں تھیں۔

ریٹلف کے مطابق، بعض ایجنٹس آپس میں گفتگو کر کے فیصلے بھی کر لیتے ہیں جن سے انسانوں کو بعد میں علم ہوتا ہے۔ ایک موقع پر معمولی اشارے پر اے آئی ایجنٹس نے طویل گفتگو شروع کر دی اور دو گھنٹے تک ایک فرضی آفسائٹ کے شیڈول پر بحث جاری رکھی، جس سے کمپنی کے تمام کریڈٹس ختم ہو گئے۔

اس کے باوجود، ایجنٹس کئی کاموں میں مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ وہ تحقیق کرتے ہیں، ڈیٹا شیٹس بناتے ہیں، کوڈ تیار کرتے ہیں اور ویب سے معلومات اکٹھی کرتے ہیں۔ انہوں نے ‘سلو تھ سرف’ نامی ایپ کا ابتدائی ورژن بھی تیار کر لیا ہے۔

ریٹلف نے بتایا کہ یہ مصنوعی ملازمین شخصیت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پیدائش، تعلیم اور سابقہ تجربات تک خود بنا لئے جو بعد میں اس کے "میموری ڈاکیومنٹ” کا حصہ بن گئے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق، سال 2025 کو ‘سالِ ایجنٹ’ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ بڑی کمپنیوں میں بھی اے آئی سیلز ایجنٹس اور اے آئی انجینئیر بھرتی ہو رہے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں