شمسی طوفان سے زمین کا بجلی نظام اور خلائی اسٹیشنز متاثر ہونے کا خطرہ

شمسی طوفان سے خلائی اسٹیشنز اور زمین کا بجلی نظام متاثر ہوسکتا ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج سے اٹھنے والے طاقتور شمسی طوفان خلا میں موجود خلائی اسٹیشنز، مواصلاتی سیٹلائٹس اور زمین کے بجلی کے نیٹ ورک کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ شدید تابکاری آلات میں تکنیکی خرابی پیدا کر سکتی ہے، نیویگیشن سسٹمز متاثر ہو سکتے ہیں، جب کہ بجلی کے گرڈ میں اضافی کرنٹ خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔

ماہرین نے یاد دلایا کہ 1859 میں آنے والے بڑے شمسی طوفان نے اس وقت کے ٹیلی گراف دفاتر میں آگ لگا دی تھی۔ ان خطرات کے ساتھ آسمان پر غیر معمولی مناظر بھی دیکھے گئے ہیں، جہاں گزشتہ اٹھارہ ماہ میں شمالی روشنیاں امریکہ، یورپ اور دیگر مقامات تک پھیل گئیں جہاں یہ عام طور پر نظر نہیں آتیں۔

The Physics of the Northern Lights

ماہرین کے مطابق سورج اس وقت اپنے 11 سالہ چکر کے عروج پر ہے، جس سے شمسی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ مئی 2024 میں تین مسلسل شمسی لہروں نے دہائیوں کا طاقتور ترین طوفان پیدا کیا، جسے ماہرین گزشتہ پانچ صدیوں کا غیر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔

شمسی ہوا چارج شدہ ذرات کا بہاؤ ہے جو سورج کے بیرونی حصے سے خلا میں نکلتا ہے۔ جب یہ ذرات زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں تو آکسیجن اور نائٹروجن کے مالیکیول توانائی جذب کر کے مختلف رنگ خارج کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ کئی ماہ تک شمسی سرگرمیوں کی شدت برقرار رہ سکتی ہے، جس کے باعث خلائی نظاموں اور زمینی بجلی کے ڈھانچے کو مسلسل خطرات لاحق رہیں گے۔

دیگر متعلقہ خبریں