آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری اور کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی شرائط میں تبدیلیاں شامل کی گئی ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ 1952، ایئرفورس ایکٹ 1953 اور پاکستان نیوی ایکٹ میں مزید ترامیم کا بل منظور کر لیا ہے ۔ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے تحت وفاقی حکومت چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وائس چیف آف آرمی سٹاف یا ڈپٹی چیف آف آرمی چیف کا تقرر کرے گی۔ وائس آرمی چیف اپنے اختیارات اور فرائض آرمی چیف کی ہدایات کی روشنی میں انجام دیں گے۔
بل میں مزید کہا گیا ہے کہ چئیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم تصور ہوگا جبکہ وزیراعظم آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر تین سال کے لیے کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کریں گے۔
کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی تقرری یا توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا اور ان پر ریٹائرمنٹ کی عمر، سروس کی معیاد یا ہٹانے کی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔
آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے اور ان کی ذمہ داریوں کا تعین وفاقی حکومت کرے گی، تاہم ان کی ذمہ داریوں کو ملٹی ڈومین ایریاز میں محدود نہیں کیا جا سکے گا۔















