اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کی پہلی منظوری دے دی، انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذمت کی۔
یروشلم: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کی پہلی منظوری دے دی ہے۔ اس موقع پر عرب رکنِ پارلیمنٹ ایمن عودہ اور انتہاپسند وزیر اتمار بن گویر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔
منظور شدہ بِل کے مطابق نسل پرستی یا اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کسی اسرائیلی شہری کو جان بوجھ کر یا لاپرواہی کے باعث ہلاک کرنے والے کو سزائے موت دی جائے گی۔ اس بِل کو دائیں بازو کی جماعت یہودی پاور پارٹی کے سربراہ اتمار بن گویر نے پیش کیا اور 16 کے مقابلے میں 39 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔
بِل کی منظوری کے بعد وزیر بن گویر نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور سوشل میڈیا پر اسے اپنی جماعت کی تاریخی کامیابی قرار دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بِل کو فلسطینیوں کے خلاف امتیازی قانون قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے بِل کو اسرائیل کی بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کا مظہر قرار دیا ہے۔ اسرائیل میں سزائے موت کی سزا ماضی میں نازی مجرم ایڈولف آئخمن کو دی گئی تھی، تاہم اب تک کسی اور کو یہ سزا نہیں دی گئی۔















