غزہ امن معاہدہ ناکام ہونے کے امکانات میں اضافہ

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹیں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کی ناکامی کے امکان پر تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے کے کئی اہم نکات پر عمل درآمد میں رکاوٹیں ہیں اور اس کے لیے واضح لائحہ عمل موجود نہیں ہے، جس سے معاہدے کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

یہ معلومات خصوصی دستاویزات سے حاصل ہوئی ہیں جو گزشتہ ماہ امریکی سینٹ کام اور سول-ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر کے زیر اہتمام دو روزہ اجلاس میں پیش کی گئیں۔ یہ مرکز جنوبی اسرائیل میں امن معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا جو 10 اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہے۔

اجلاس میں امریکی سکیورٹی کوآرڈینیٹر برائے اسرائیل و فلسطینی اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فنزل کی سربراہی میں تقریباً 400 شرکاء نے حصہ لیا، جن میں امریکی وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع، غیر سرکاری تنظیموں اور نجی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔

دستاویزات میں خاص طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کا منصوبہ عملی طور پر ممکن ہے یا نہیں۔ ایک سلائیڈ میں امن منصوبے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے درمیان سوالیہ نشان دکھایا گیا، جو معاہدے کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کی علامت ہے۔

امریکی رپورٹوں کے مطابق حماس جنگ کے بعد دوبارہ علاقے پر کنٹرول قائم کر رہی ہے، اور روزانہ صرف 600 ٹرک امداد پہنچنے کے باعث شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ امریکا اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بعد بین الاقوامی ڈونرز کانفرنس بلانے کی تیاری میں ہے تاکہ تعمیرِ نو اور سکیورٹی کے لیے مالی امداد حاصل کی جا سکے، مگر ابھی واضح ٹائم لائن موجود نہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں